عقیدت مندوں کی اچّھی خاصی بِھیڑ جمع ہو جاتی۔ عام طور سے پچاس سے دوسو آدمیوں تک کاہجوم ہوتا اور کبھی کبھی تو آنے والوں کی اتنی کثرت ہوتی کہ بیٹھک اور باہَری دالان دونوں میں بِالکل جگہ نہ رہتی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے تشریف رکھتے ہی خُدّام چائے سے بھرا ہوا ایک کپ، پِرَچ(یعنی چھوٹی طشتری)میں لگا کر چائے کی پیالی پر ایک پاؤ(یعنی بسکُٹ)رکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کرتے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہ پیالی اپنے دستِ مبارَک سے اُٹھا کر اپنے دائیں بیٹھنے والے کو دیدیتے ، اِسی طرح چار چھ پیالیاں خود تقسیم فرماتے، بَقِیَّہ پورے مجمع کو خُدّام اِسی طرح ایک ایک پاؤ (یعنی بسکُٹ)اور ایک ایک پیالی چائے تقسیم کرتے ایک پیالی چائے اور ایک پاؤ (یعنی بسکُٹ)کے ساتھ آپ بھی تناوُل فرماتے۔ گویا یہ صبح کا ناشتہ ہوتا تھا۔
حضرت مولاناسیِّد منظوراحمد صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وُثوق کے ساتھ فرماتے ہیں کہ حاضِرین کم ہوں یا زِیادہ میں نے یہ بات خاص طور سے نوٹ کی وُہی ایک سَماوَر کی چائے روزانہ آنے والے تمام آدَمیوں کے لئے کافی ہوتی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حاضِرین کی تعداد زیادہ ہو گئی تو مزید انتِظام کرنے کی ضَرورت محسوس کی ہو۔ حضرت مولانا سیِّدمنظور احمد صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مذکورہ بالا بیان اِس بات کیطرف واضِح اشارہ دے رہا ہے کہ یہ حضرتِ صدرُ الاْفاضِل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے معمولاتِ یومِیّہ کی کرامتوں میں سے ایک انتِہائی کریمانہ کرامت ہے۔