Brailvi Books

آدابِ طعام
397 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر ایک بار دُرُود ِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔
ہزار من سے زائدکَھجوریں کھائی گئیں۔ یہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شانِ کرم ہے کہ اُس نے اپنے پیارے حبیبِ مکّرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بے شُمار اختِیارات اور عظیم الشّان مُعجِزات سے نوازا۔ یقینا سرکارِ دوجہان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شانِ عظمت نشان تو بَہُت بڑی ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے صَدقے میں آپ کے غلاموں کو بھی بڑے بڑے کمالات عطا ہوئے ہیں ۔چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰحضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن کے خلیفہ مجازحضرتِ صدرُ الافاضِل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کرامت مُلاحَظہ فرمایئے۔
(۲۸)صدرُ الافاضِل کی کرامت
    حضرتِ مولانا منظور احمد صاحِب گَھوسوی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنامُشاہَدَہ بیان فرماتے ہیں کہ صاحِبِ خَزائنُ العِرفان صدرُ الافاضِل علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی کاروزانہ کا معمول تھا کہ نَماز مَحَلّہ کی مسجِد میں باجماعت ادا فرماتے ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مسجِد جانے سے قَبل ہی ایک چار فٹ کے سما وَ ر (سماوَر تانبے یا پیتل کے اس دوہرے برتن کو بولتے ہیں جس کے اندر آگ جلتی ہے اور باہر پانی گرم ہوتا یا چائے پکتی ہے)میں چائے کا سامان ڈال دیا جاتا اور آگ جلا دیجاتی ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب نَماز پڑھ کر واپَس تشریف لاتے، چائے تیاّر ہو جاتی۔ آ پ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیٹھک میں تشریف فرما ہوجاتے اور دیکھتے ہی دیکھتے
Flag Counter