لے جاتے ،یہاں تک کہ تمام لشکر نے کھائِیں اور جو باقی رَہ گئیں ان کے بارے میں فرمایا، اے ابو ہُریرہ ! ان کو اپنے تَوشہ دان میں رکھ لو اور جب چاہو ہاتھ ڈال کر ان میں سے نِکال لیا کرو لیکن تَوشہ دان نہ اُنڈَیلنا ! حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حُضُور سر ورِکائنات، شاہِ موجودات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم کی ظاہِری حیاتِ مبارَکہ کے زمانے میں اور حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدّیق اور حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم اور حضرتِ سیِّدُنا عثمان غنی علیھم الرضوان کے عَہدِ خِلافت تک ان ہی کَھجوروں سے کھاتا رہا۔ اور خَرچ کرتا رہا تَخمیناً(یعنی اندازاً )پچاس وَسْق تو فی سبیلِ اللہ دیں اور دو سو وَسْق سے زِیادہ میں نے کھائِیں۔ جب حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہو گئے تو وہ تَوشہ دان میرے گھر سے چوری ہو گیا۔