Brailvi Books

آدابِ طعام
395 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
اے دلِ تَرسِنْدہ اَز نارو عذاب 	     با چُناں دَست و لَبے کُن اِقْتَراب

چُوں جَما وے راچُناں تشریف داد	   جانِ عاشِق را چَہا خَواہَد کَشاد
(۲۷)ابوہُریرہ کا تَوشہ دان
    حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، ایک غزوہ میں لشکرِ اسلام کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہا ۔ اللہ کے پیارے رسول، رسولِ مقبول، سیِّدہ آمِنہ کے گلشن کے مہکتے پھول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے فرمایا، تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کی، تَوشہ دان میں تھوڑی سی کَھجوریں ہیں۔ فرمایا، لے آؤ۔ میں نے حاضِر کر دیں جو کُل 21 تھیں ۔ سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان پر دستِ مبارَک رکھ کر دُعا مانگی پھر فرمایا، دس افراد کو بلاؤ! میں نے بُلایا، وہ آئے اور سیر ہو کر کھایا اور چلے گئے۔ پھر دس افراد کو بلانے کا حکم دیا، وہ بھی کھا کر چلے گئے۔ اِسی طرح دس دس آدَمی آتے اور سیر ہو کر کھاتے اور تشریف
(یعنی اے وہ دل جس کو عذابِ نار کا ڈر ہے، ان پیارے پیارے ہونٹوں اور مقدّس ہاتھوں سے نَزدیکی کیوں نہیں حاصِل کر لیتا جنہوں نے بے جان چیز رومال تک کو ایسی فضلیت و بُزُرگی عطا فرمائی کہ وہ آگ میں نہ جلے ، تو ان کے جو عاشِقِ زار ہیں ان پر عذابِ نار کیوں نہ حرام ہو!)
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم 

             آقا کا گدا ہوں اے جہنَّم ! تُو بھی سُن لے!

             وہ   کیسے   جلے   جو کہ  غلامِ  مَدَنی   ہو
Flag Counter