حضرتِ سیِّدُنا عُباّد بن عبدُ الصَّمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، ہم ایک روز حضرتِ سیِّدُنا انَس بن مالِک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دولت خانہ پرحاضِر ہوئے۔آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم پا کر کنیزنے دسترخوان بچھایا۔ فرمایا، رومال بھی لاؤ ۔ وہ ایک رومال لے آئی جسے دھونے کی ضَرورت تھی۔ حکم دیا، اِس کو تَنُّور میں ڈال دو! اُس نے بھڑکتے تَنُّور میں ڈال دیا !تھوڑی دیر کے بعد جب اُسے آگ سے نکالا گیا تو وہ ایسا سفید تھا جیسا کہ دودھ ۔ ہم نے حیران ہوکر عرض کی، اِس میں کیا راز ہے؟ حضرتِ سیِّدُنا انَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، یہ وہ رومال ہے جس سے حُضُور سراپا نور ،فیض گَنجور، شاہِ غَیُور ، صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنا رُخِ پُر نور صاف فرمایا کرتے تھے۔ جب دھونے کی ضَرورت پڑتی ہے ہم اِس کو اِسی طرح آگ میں دھو لیتے ہیں! کیونکہ جو چیز اَنبِیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام کے مبارَک چہروں پر گزرے آگ اُسے نہیں جلاتی