میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے! صابِر ہو تو اَیسا! آخِر کون سی مصیبت ایسی تھی جو اُن بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وُجُود میں نہ تھی حتّٰی کہ بِالآخِر آنکھوں کے چَراغ بھی بجھا دیئے گئے مگر اُن کے صبرو اِستِقِلال میں ذرّہ برابر فرق نہ آیا، وہ '' راضی بَرِضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ'' کی اُس عظیم منزِل پر فائز تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے شفاطَلَب کرنے کے لئے بھی تیّار نہیں تھے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بیمار کرنا منظور فرمایا ہے تو میں تندُرُست ہونا نہیں چاہتا۔ سبحٰنَ اللہ ! یہ انھیں کاحِصّہ تھا۔ایسے ہی اہلُ اللہ کا مَقُولہ ہے،
نَحنُ نَفْرَحُ بِالْبَلاَءِ کمَایَفْرَحُ اَھْلُ الدُّنیا بِالنِّعَمِ۔
یعنی ''ہم بلاؤں اور مصیبتوں کے ملنے پر ایسے ہی خوش ہوتے ہیں جیسے اہلِ دنیا دُنیوی نعمتیں ہاتھ آنے پر خوش ہوتے ہیں۔''یاد رہے! مصیبت بسا اوقات مومِن کے حق میں رَحمت ہوا کرتی ہے اور صَبر کر کے عظیم اَجر کمانے اور بے حساب جنَّت میں جانے کا موقع فراہم کرتی
جے سوہنا مِرے دُکھ وِچ راضی
میں سکھ نُوں چُلّھے پاواں