میری اُمّید صِرف اپنی ذات میں باقی رکھی ، اے میرے پیدا کرنے والے! میراتَو مقصود بس تُوہی تُو ہے۔''حضرتِ سیِّدُنا یونُس عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام نے فرمایا، اے جبرئیلِ امین! میں نے آپ کونَمازی روزہ دار شخص دکھانے کاکہا تھا۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام نے جواب دیا، اِس مصیبت میں مُبتَلا ہونے سے قَبل یہ اَیسا ہی تھا، اب مجھے یہ حُکم ملا ہے کہ اس کی آنکھیں بھی لے لوں ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام نے اشارہ کیا اوراُس کی آنکھیں نکل پڑیں! مگر عابِد نے زَبان سے وُہی بات کہی، ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! جب تک تُو نے چاہا اِن آنکھوں سے مجھے فائدہ بخشا اور جب چاہا انھیں واپَس لے لیا۔ اے خالِق! عَزَّوَجَلَّ میری اُمّید گاہ صِرف اپنی ذات کو رکھا ، میرا تومقصود بس تُوہی تُوہے۔'' حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام نےعابِدسے فرمایا،آؤ ہم تم باہَم ملکر دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ تم کو پھر آنکھیں اور ہاتھ پاؤں لوٹا دے اور تم پہلے ہی کی طرح عبادت کرنے لگو۔ عابِد نے کہا، ہرگز نہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام نے فرمایا ، آخِر کیوں نہیں؟ عابِد نے جواب دیا ،'' جب میرے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی رِضا اِسی میں ہے تو مجھے صِحّت نہیں چاہئے ۔ '' حضرتِ سیِّدُنا یونُس عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام نے فرمایا،واقِعی میں نے کسی اور کو اِس سے بڑھ کر عابِد نہیں دیکھا۔ حضرتِ سیِّدُنا جبرئیلِ امین عَلیٰ