| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ فرمایا، ہما را ایسا مقام نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھوکا رکھے ! یہ دَرَجہ تو وہ اپنے وَلیوں کو عطا فرماتا ہے۔مشائخ میں سے بعض کایہ حال تھا کہ انہیں جب تنگدستی پیش آتی تو فرماتے، مرحبا! اے شَعارِ صالحِین! (یعنی اے غُربت و فاقہ مستی!تُوتو اہلُ اللہ کی نشانی ہے تجھے خوش آمدید کہ ہمارے پاس تیری تشریف آوری ہو گئی )
( رَوضُ الرِیاحین ص۱۱)
وہ عشقِ حقیقی کی لذّت نہیں پا سکتا
جو رنج و مصیبت سے دو چار نہیں ہوتافضُول فکریں چھوڑدیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حِکایت میں اُن بے صبروں کیلئے کافی درس ہے جو دُنیوی مُستقبِل کی بے جا فکِروں میں پڑتے ،کُڑھتے اور خوامخواہ دل مَسُوستے رہتے ہیں ، ان کی بچّیاں ابھی تو کم سِن ہوتی ہیں پھر بھی ان کی شادیوں کیلئے سوچ سوچ کر پاگل ہوئے جاتے ہیں۔فَرض ہو جانے کے باوُجُود حج کی سعادت سے خود کو محروم رکھتے ہیں اور عُذْر یہی ہو تا ہے کہ پہلے بچیوں کی شادی کے ''فرض'' سے سُبکدوش ہو جائیں ! حالانکہ زندَگی کا کوئی بھروسہ نہیں، بچیوں کی جوانی تک خود زندہ رہیں گے یا نہیں اس کی کسی کے پاس کوئی گارنٹی نہیں یا بچّیاں جوانی کی دِہلیز پر قدم رکھنے سے قبل ہی موت کے دروازے سے قَبر کی سیڑھیاں اُتر جائیں گی اِس کاکسی کوبھی پتا نہیں ۔