| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
عَزَّوَجَلَّ ہم یوں بال بال بچ کر زندہ سلامت باہَر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ چاروں طرف مکانات مِسمار ہوچکے تھے، زخمیوں کی چیخ و پکار سے فَضا کا سینہ دہل رہا تھا، جگہ جگہ لوگ ملبے تلے دبے پڑے تھے، کئی دم توڑ چکے تھے اور کچھ آخِری ہچکیاں لے رہے تھے ۔ ہم نے لوگوں کے ساتھ ملکر امدادی کام کیا، مسجِد کے سامنے واقِع ایک مکان کے ملبے سے ایک ڈیڑھ سالہ بچّی کوزندہ نکالنے میں کامیابی ملی۔ جس طرح بن پڑا کئی شُہَداء کے جنازے پڑھے اور ان کی تدفین میں حصّہ لیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلّ َہماری ان کوشِشوں کے سبب تباہ حالی کے باوُجُود وہاں کے مسلمانوں کی دعوتِ اسلامی سے مَحَبَّت قابلِ دید تھی۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
(۲۰)دُشوار گزار گھاٹی
حضرتِ سیِّدُنا ابو الدَّرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک روز اپنے اَحباب میں تشریف فرماتھے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں اور کہنے لگیں ، آپ یہاں ان لوگوں میں تشریف فرما ہیں اور بخدا گھر میں مُٹّھی بھر بھی آ ٹا نہیں ۔ اُنہوں نے جواب دیا، یہ کیوں بھولتی ہو کہ ہمارے سامنے ایک نہایت دُشوار گزار
یارسولَ اللہ کے نعرے سے ہم کو پیار ہے
جس نے یہ نعرہ لگایا اُس کا بیڑا پار ہے