| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر ایک باردُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔
حصّے میں یعنی پنجاب کے بعض مقامات کے علاوہ کشمیر اور صوبہ سرحد میں بے حد تباہی مچائی ، لاکھوں افراد مارے گئے اور زخمیوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں ۔ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوتِ اسلامی کے عاشِقانِ رسول کے سنّتوں کی تربیّت کے کچھ مَدَنی قافِلے بھی زَلزلہ زَدہ عَلاقوں میں لا پتا ہو گئے مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہ جلد ہی زندہ سلامت مل گئے ان میں سے ایک مَدَنی قافِلے کی مَدَنی بہار مُلا حَظہ ہوچُنانچِہ
(۱۹)''یا رسولَ اللہ'' لکھنے کی بَرَکت
لانڈھی بابُ المدینہ کراچی کے 7 اسلامی بھائیوں پر مُشتمِل ایک 30 دن کے مَدَنی قافِلے کا کچھ اِس طرح بیان ہے ، ہمارا مَدَنی قافِلہ عباّس پور تَحصیل نکر بالا کشمیر کی جامِع مسجِد غوثیہ میں ٹھہرا ہوا تھا، ۳رَمَضانُ المبارَک ۱۴۲۶ھ (بمطابِق 8.10.05)کو نَمازِ فَجْر و اِشراق وغیرہ کے بعد جَدوَل کے مطابِق عاشِقانِ رسول آرام کر رہے تھے کہ یکایک زور دار جھٹکے سے سب ہڑ بڑا کر جاگ اُٹھے ، حواس قائم ہوں اس سے پہلے ہی مسجِد کے درودیوار کڑاکے دھڑاکے کے ساتھ ٹوٹنے لگے، مگر یارسولَ اللہ کے نعرے پر ہماری جان قربان ! مسجِد کی جَنوبی دیوار کا وہ حصّہ جس پر یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم لکھا ہوا تھا وہ گرنے سے بچ گیا اور چھت اُس پر گر کرتِرچھی کھڑی ہو گئی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ