بار وِلادت ہونے والی تھی۔ اُس نے ایک دن اپنی بیوی سے کہا کہ اگر اب کی باربھی تُونے بچّی کو جَنا تو میں تجھے نومولود بچّی سمیت قَتل کردوں گا۔ رَمَضَانُ الْمبارَک کی تیسری شب ایک بار پھر بچّی ہی کی وِلادت ہوئی ۔صُبح کے وَقت بچّی کی ماں کی چیخ و پکا ر کی پرواہ کئے بِغیر اُس بے رَحم باپ نے مَعاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی پھول جیسی زِندہ بچّی کو اٹھا کرپریشرککر میں ڈال کرچُولہے پر چڑھا دیا ۔ یکایک پریشر ککر پھٹااورساتھ ہی خوفناک زَلزلہ آگیا! دیکھتے ہی دیکھتے وہ ظالم شَخص زمین کے اندر زندہ دَھنس گیا۔ بچّی کی ماں کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا اور غالِباً اُسی کے ذَرِیعے اِس درد ناک قصّے کا انکشاف ہوا۔