پزّوں، پراٹھوں، کبابوں، سموسوں، گرما گرم پکوڑوں، آئسکریموں ، ٹھنڈی ٹھنڈی بوتلوں، خوش ذائِقہ فالودوں، میٹھے میٹھے مزیدار شربتوں وغیرہ عمدہ غذاؤں کے شوقینوں، نیز عالیشان کوٹھیوں، وسیع مکانوں،نت نئے بیش قیمت لباسوں ، ہر طرح کی آسائشوں اورسَہولتوں کے طلبگاروں، مالداروں، سرمایہ داروں ، دنیا میں خوب خوشیاں پانے والوں،اچّھی صِحّت والوں،اقتدار کی ہوس میں بد مست رہنے والوں کیلئے بِالخصوص غور و فکر کا مقام ہے ، آہ! آہ!آہ!''تذکِرۃُ الاولیاء '' میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا فُضَیل بن عِیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، جب دُنیا میں کسی کو نِعتموں سے نوازا جاتا ہے تو آخِرت میں اُس کے سو حصّے کم کر دیئے جاتے ہیں ، کیوں کہ وہاں تو صِرف وُہی ملیگا جو دُنیا میں کمایا ہے، لہٰذا انسان کے اختِیار میں ہے کہ وہ حصہ آخِرت میں کمی کرے یا زیادَتی ۔ مزید فرمایا، دُنیا میں عُمدہ لباس اور اچّھا کھانے کی عادت مت ڈالوکہ مَحشر میں ان چیزوں سے محروم کر دیئے جاؤ گے۔