| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
مُباح کب عبادت بنتا ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مُباح(یعنی ایسا عمل جس پر ثواب ملے نہ گناہ)میں اگر اچھّی نیّت شامِل کر لی جائے تو وہ کارِ ثواب بن جاتا ہے اب جس قَدَر اچّھی نیّتیں زیادہ ہوں گی اُسی قَدَر ثواب میں بھی اضافہ ہوتاچلا جائیگا مگر اُس اچّھی نیّت کا تعلُّق عملِ آخِرت سے ہونا ضَروری ہے۔ فِقْہْ کی مشہور کتاب اَلْاَشباہُ وَ النَّظائِر میں ہے ، ''مُباحات کا مُعامَلہ نِیّات کے اِعتبار سے مختلف ہوتا ہے اگر ان سے طاعات پر تَقَوّیٰ(یعنی عبادات پر قُوّت حاصِل کرنا )یا ان تک پہنچنا مقصود ہو تو پھر یہ (مُباح بھی)عبادت ہے۔
(اَلْاَشباہُ وَ النّظائر ج ۱ ص ۲۸ بابُ المدینہ کراتشی)
لُطف اندوزی کیلئے مُباح کا استعمال
کوشِش کرنی چاہئے کہ جو بھی مُباح (یعنی جس کا کرنا صِرف جائز ہو، ثَواب یا گناہ نہ ہو)کا م کیا جائے یا مُباح غذا استِعمال کی جائے اُس میں زِیادہ سے زِیادہ اچھّی نیّتیں شامِل کرلی جائیں تاکہ خوب خوب ثواب ملے ۔ اگرچِہ اچّھی نیّت کے بِغیر صِرف لُطف اندوز ہونے کیلئے مُباح چیزیں استِعما ل کر نے والا گنہگا ر نہیں تاہم حُجَّۃُ الاسلامحضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کا ارشادِ عالی ہے ، '' اس سے سُوال ضَرور ہوگا اور جس سے حساب میں جھگڑا ہوا اسے عذاب دیا گیا اور جو آدَمی دُنیا میں مُباح چیزوں کو استِعمال کرتا ہے اگرچِہ اِسے قِیامت