مُفسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس آیتِ مبارَکہ کے تَحت یہ بھی فرماتے ہیں ، یہ سُوال ہر نعمت کے مُتَعَلِّق ہو گا،جسمانی یا رُوحانی ، ضَرورت کی ہو یا عیش و راحت کی،ٹھنڈے پانی ،دَرَختْ کے سائے ، راحت کی نیند کا بھی۔ جیسے کہ حدیث شریف میں ہے اور'' نَعیم''کے اِطلاق سے (بھی)معلوم ہوتاہے۔ بِغیراِستِحقاق جو عطا ہو وہ''نعمت ''ہے، ربّ عَزَّوَجَلَّ کا ہر عَطِیَّہ نعمت ہے خواہ جسمانی ہو یا رُوحانی ۔ اس کی دو قسمیں ہیں:(۱)کَسبی (۲)وَ ہْبی۔ جو نعمتیں ہماری کمائی سے ملیں وہ کَسبی ہیں، جیسے دولت سلطنت وغیرہ ۔جو مَحض ربّ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے ہوں ، وہ وَہْبی جیسے ہمارے اَعضاء ، چاند سورج ، وغیرہ ۔ کَسبی نعمت کے مُتَعَلِّق تین سُوال ہوں گے(۱) کہاں سے حاصِل کیں؟ (۲) کہاں خرچ کیں؟(۳) ان کا شکریہ کیا ادا کیا؟ وَہبی نعمتوں کے مُتَعَلِّق ا ۤخِری دو سُوال ہوں گے۔