میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی نَفس کُشی مر حَبا ! کاش ! ہم بھی سخت گَرمی میں نَفْس کے مطالَبہ پر آ ئسکریم یا فالودہ کھاتے اور ٹھنڈے مَشروبات غَٹ غٹاتے وَقت امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی اِس ایمان افروزحِکایت کو بھی کبھی کبھی یاد کر لیا کریں ۔یاد رکھئے! نَفس کو جس قَدَر آسائشوں کی عادت ڈالی جائے وہ اُسی قَدَر ڈھیٹ اور عیش پرست ہو جاتا ہے۔ دیکھئے ! جب پنکھا اِیجاد نہیں ہوا تھا اُس وَقْت بھی لوگ گُزارہ کر ہی لیتے تھے اور آج بَہُت سوں کی ائیر کنڈیشنڈ روم میں سونے کی عادت پڑ گئی ہے ان کو اب گرمیوں میں .A.C کے بِغیر نیند آنا دشوار ہوتا ہو گا۔ اِسی طرح جو عُمدہ و لذیذ اور گَرما گرم کھانوں کے عادی ہیں، سادہ کھانا دیکھ کر اُن کا '' مُوڈ آف '' ہو جاتا ہو