صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عباّس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں، میں ایک دن امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضِر ہوا ، دیکھا کہ آپ کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم اپنے مبارَک جوتے کو پیوند لگا رہے ہیں ۔ میں نے تعجُّب کیا تو فرمایا ، رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی نعلینِ شریفین اورلباس مبارَک کو پیوند لگا لیا کرتے اور سُواری پر اپنے پیچھے دوسرے کو بھی بٹھا لیا کرتے تھے۔
(سفینہ نوح حصّہ اوّل ص ۹۸)
اللہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضیٰ شیرِ خدا
کہدے کوئی گھیرا ہے بلاؤں نے حسنؔ کو
اے شیرِ خدا بہرِ مدد تیغ ِ بکَف جا