امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمتِ سراپا عظمت میں دارُالاَمارۃ کوفہ میں حاضِر ہُوا۔ آپ کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے سامنے جَو شریف کی روٹی اور دودھ کا ایک پِیالہ رکھا ہُوا تھا، روٹی خشک اور اِس قَدَر سختْ تھی کہ کبھی اپنے ہاتھوں سے اور کبھی گُھٹنے پر رکھ کر توڑتے تھے۔ یہ دیکھ کر میں نے آپ کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی کنیز فِضّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا، آپ کو اِن پر تَرس نہیں آتا؟ دیکھئے تو سہی روٹی پر بھوسی لگی ہوئی ہے اِن کیلئے جَو شریف چھان کر نرم روٹی پکایا کریں۔ تا کہ توڑنے میں مَشَقَّت نہ ہو ۔ فِضّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا،امیرُالْمُؤمِنِین کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ہم سے عہد لیا ہے کہ ان کے لئے کبھی بھی جَو شریف چھان کر نہ پکایا جائے ۔ اتنے میں امیرُالْمُؤمِنِین کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم میری طرف مُتوجِّہ ہوئے اور فرمایا، اے ابنِ غَفلہ! آپ اِ س کنیز سے کیا فرما رہے ہیں؟ میں نے جو کچھ کہا تھا عَرض کر دیا اور التِجاء کی، یاامیرَالْمُؤمِنِین !آپ اپنی جان پر رَحم فرمایئے اور اِتنی مَشَقَّت نہ اُٹھایئے۔ تو آپ کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا، اے ابنِ غَفلہ ! دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار، محبوبِ پرورد گار عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ کے اَہل و عِیال نے کبھی تین دن برابر گیہوں کی روٹی شکم سیر ہو کر نہیں کھائی اور نہ ہی کبھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے آٹا چھان کر پکایا گیا۔ ایک دَفْعَہ