کئی بار گَرفتار بھی ہوا مگر اَثَر ورُسُوخ استِعمال کر کے چھوٹ گیا۔ آخِرَش کسی جُرم کی پاداش میں بابُ المدینہ کراچی کی پولیس کے ہتّھے چڑھ گیا، سزا ہوئی اور جیل میں چلا گیا ۔ سزا کاٹ لینے کے بعد رِہائی ملنے پر مجھ سے ملنے آیا۔ میں پہلی نظر میں اُس کو پہچان نہ سکا کیوں کہ میں نے اِس کو داڑھی مُنڈا اور سر بَرَہنہ دیکھا تھا مگر اب اِس کے چہرے پر میٹھے میٹھے آقا مَدَینے والے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحَبَّت کی نشانی نورانی داڑھی جگمگا رہی تھی، سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج اپنی بہاریں لُٹا رہا تھا ، پیشانی پر نَمازوں کا نور نُمایاں نظر آ رہا تھا۔ میری حیرت کا طِلِسم( طِ ۔لِسْم)توڑتے ہوئے وہ بولا، قید کے دَوران جَیل کے اندر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول مُیَسَّر آ گیا اور عاشِقانِ رسول کی انفِرادی کوشِش کی بَرَکت سے میں نے گناہوں کی بیڑیاں کاٹ کر اپنے آپ کو مَدَنی محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زلفوں کا اَسیر بنا لیا ۔