| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
دیکھتے رہے، اُڑتا ہوا ان کی نگاہوں سے غائب ہو گیا۔ تمام بیمار مصیبت زدہ اچّھے تندرست ہو گئے فُقَراء غنی(یعنی غریب مالدار)ہو گئے پھر یہ خوان چالیس دن مسلسل یا ایک دن کے بعد ایک دن آتا رہا، لوگ کھاتے رہے ۔پھرحضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
پر وحی آئی کہ اب اِس سے صِرف فُقَراء کھائیں کوئی غنی نہ کھائے ۔ جب یہ اعلان ہوا تو اَغنیاء(یعنی مالدار لوگ)ناراض ہو گئے اوربولے کہ یہ مَحض جادو ہے! یہ مُنکِرِین(یعنی انکار کرنے والے)تین سو آدَمی تھے یہ لوگ شَب کو اپنے بال بچّوں میں بخیریت سوئے مگر صبح کو اُٹھے تو سُوَّر تھے راستوں میں بھاگتے پھرتے تھے گندگی پاخانہ کھاتے تھے ۔ جب لوگوں نے ان کا حال یہ دیکھا تو حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
کے پاس بھاگے آئے، بَہُت روئے ،یہ سُوَّر بھی آ پ کے گرد جمع ہو گئے اور روتے تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
انہیں نام بنام پکارتے تھے یہ جواب میں سر ہِلاتے تھے مگر بول نہ سکتے تھے۔ تین دن نہایت ذِلّت و خواری سے جِیئے، چوتھے دن سب کے سب ہلاک ہو گئے ان میں کوئی عورت یا بچّہ نہ تھا سب مرد تھے۔ جتنی قومیں دُنیا میں مَسخ کی گئیں وہ ہلاک کر دی گئیں ان کی نسل نہ چلی یہ قانون قدرت ہے۔
(مُلخصاَالتفسیر الکبیر ج۴ص۴۶۳وغیرہ)
تِرمِذی شریف کی حدیث میں ہے ، نبیِّ کریم رء ُوفٌ رحیم ، محبوبِ ربِّ عظیم عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ