عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
نے فرمایا، کہ اسے کون کھولے گا؟ یہ خوان سُرخ غلاف سے ڈھکا ہوا تھا۔ تمام نے عرض کی، حُضُور ! آپ ہی کھولیں ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
نے تازہ وُضُو کیا نوافِل پڑھے ،دیر تک دعائیں مانگیں ،پھر دسترخوان سے غِلاف ہٹایا، اس میں یہ چیزیں تھیں:۔ سات مچھلیاں،سات روٹیاں، ان مچھلیوں پرسِنّے نہ تھے، اندر کانٹا نہ تھا ۔ اس سے روغن ٹپک رہا تھا ان کے سروں کے آگے سِرکہ دُم کی طرف نمک آس پاس سبزیاں ۔بعض روایات میں ہے کہ پانچ روٹیاں تھیں ۔ ایک روٹی پر زیتون دوسری پر شہد تیسری پر گھی چوتھی پرپَنیر۔ پانچویں پر بُھنا ہوا گوشت ۔ شَمعون حواری نے پوچھا کہ اے روحَ اللہ! یہ کھانا جنّت کا ہے یا زمین کا؟ فرمایا ، نہ زمین کا نہ جنّت کا،یہ مَحض قدرَتی ہے۔ اوَّلاً بیمار و فُقَرا ء، فاقہ مست، بَرص و جُذام والے اوراپاہِج بلائے گئے۔ آپ نے فرمایا ،بِسمِ اللہ پڑھ کرکھاؤ تمہارے لئے مبارَک ہے اورمُنکِرِین کے لئے بلا۔ پھر دوسرے لوگوں سے بھی یہی فرمایا، چُنانچِہ پہلے دن سات ہزار تین سو آدَمیوں نے کھایا،پھر وہ خوان اُٹھا، لوگ