عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
کو ہر طرح کا اطمینان دلایا کہ ہم یہ خوان مَحض شوق یا تفریح کیلئے نہیں مانگتے بلکہ اس میں ہمارے دینی مقاصِد ہیں ۔تب حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
نے ٹاٹ کا لباس پہنا اور رو رو کر دُعا کی: ۔
اَللّٰہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلْ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾
ترجَمہ کنز الایمان: اے اللہ! اے رب ہمارے !ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رِزق دے اور تُو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ ( پ ۷ المائدہ ۱۱۴)
چُنانچِہ سُرخ رنگ کادسترخوان بادَلوں میں ڈھکا ہو ا آیا، یہ تمام لوگ اسے اُترتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ یہ دسترخوان مَع بادَلوں کے آہِستہ آہِستہ نیچے اترا یہاں تک کہ لوگوں کے درمِیان رکھ دیا گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
اِس دسترخوان کو دیکھ کر بَہُت روئے اور دُعا کی، مولیٰ!