Brailvi Books

آدابِ طعام
358 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
(۹)300 آدَمی سُوَّر بن گئے!
حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
کی خدمت سراپا عظمت میں حواریوں نے عَرض کی،کہ(کیا)آپ کا ربّ عَزَّوَجَلَّ آپ کی دُعا سے یہ کرم نوازی فرما دیگا کہ ہم پر آسمان سے غیبی دسترخوان نعمتوں سے بھرا ہوا اُتارے؟ اس پر حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
نے فرمایا،ایسے سُوالات نہ کرو ،اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو، منہ مانگے مُعجِزات نہ مانگو اگر تم مومِن ہو تو اِس سے باز آجاؤ ۔ اُنہوں نے جواباً عرض کی،حُضُورِ والا! ہمارا یہ مَعرُوضہ آپ کی نُبُّوَت یا ربّ تعالیٰ کی قُدرتِ کامِلہ میں کسی شک وشُبہ کی بِنا پر نہیں بلکہ اس کے چار مقصد ہیں:(۱)ایک یہ کہ ہم وہ غیبی کھانا کھائیں ،بَرَکت حاصِل کریں، اس سے ہمارے دل منوّر ہو جائیں، ہم کو قُربِ خُداعَزَّوَجَلَّ اور زیادہ حاصِل ہو جائے(۲)دوسرے یہ کہ آپ علیہ السلام نے جو ہم سے وعدہ فرمایا ہے کہ تم لوگ مقبولُ الدُّعا ہو، ربّ تعالیٰ تمہاری مانتا ہے اِس کا ہم کوعَینُ الیقین حاصِل ہو جائے دل ہمارے مطمئن ہو جائیں ہم کو اپنے کامِلُ الایمان ہونے پر اطمینان ہو جائے(۳)تیسرے یہ کہ ہم کو آپ علیہ السلام کی صَداقت عَینُ الیقین سے معلوم ہو جائے(۴)چوتھے یہ کہ ہم اِس آسمانی مُعجِزے کامُشاہَدَہ کر لیں اور دُوسروں کے لیے ہم عَینی گواہ بن جائیں ینز تا قِیامت لوگوں کے لیے ہمارا یہ واقِعہ کمالِ ایمان کا
Flag Counter