حاضِر ہُوا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صَحابہ کرام علیھم الرضوان کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ مارے شَرم کے کچھ عرض نہ کر سکا اورخاموش کھڑا رہا۔ سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے میری طرف دیکھا میں نے اشارہ سے کھانے کے لئے چلنے کی اِلتِجاء کی، فرمایا ، اور یہ لوگ ؟ میں نے عَرض کی، نہیں۔ سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خاموش ہو گئے اور میں اِسی مقام پر کھڑا رہا۔ حُضُورِ انور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر میری طرف نظر فرمائی ۔ میں نے اِسی طرح پھر اشارَۃً عَرض کی۔ فرمایا، یہ لوگ ؟ میں نے عَرض کی، نہیں۔ دوسری یا تیسری مرتبہ کے جواب میں میں نے عَرض کی،'' بَہُت اچّھا ' ' یعنی ان کو بھی لے چلئے اور ساتھ یہ بھی عَرض کر دی کہ صِرف تھوڑا سا کھاناآپ
صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی کے لئے پکایا ہے۔ شاہِ خُیرُالْاَنام صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان تمام صَحابہ کرام علیھم الرضوان کے ساتھ تشریف لائے ، سب نے اچّھی طرح کھایا اور کھانا پھر بھی بچ رہا۔