رکھتا ، ایک بیچتا اور دوسرا خریدتا، رات کوسوتے وَقت بھی سِرہانے ریڈیو چلا کر رکھتا، ریڈیو سنتے سنتے رات دو بجے جب مجھے نیند گھیر لیتی تو اُٹھ کر امّی جان ریڈیو بند کرتیں۔غالِباً ۱۴۱۶ ھ کے رَمَضَانُ المبارَک کی کسی جُمعرات کا واقِعہ ہے کہ میں اپنے ایک دوست سے ملنے حَیدر آباد گیا، وہ مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنَّتوں بھرے اجتِماع میں فیضانِ مدینہ لے گئے ۔ بابُ المدینہ کراچی سے آپ(یعنی سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ )کا ٹیلفونِک بیان سنا، سُنتے ہی میری زندَگی میں مَدَنی انقِلاب برپا ہوگیا ،خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّکے سبب میں نے رو رو کر گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے مُنسَلِک ہو گیا۔ عطاّؔر آباد میں دعوتِ اسلامی کے ایک عاشقِ رسول نے انفِرادی کوشِش کے ذَرِیعے