Brailvi Books

آدابِ طعام
353 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
رکھتا ، ایک بیچتا اور دوسرا خریدتا، رات کوسوتے وَقت بھی سِرہانے ریڈیو چلا کر رکھتا، ریڈیو سنتے سنتے رات دو بجے جب مجھے نیند گھیر لیتی تو اُٹھ کر امّی جان ریڈیو بند کرتیں۔غالِباً  ۱۴۱۶؁ ھ کے رَمَضَانُ المبارَک کی کسی جُمعرات کا واقِعہ ہے کہ میں اپنے ایک دوست سے ملنے حَیدر آباد گیا، وہ مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنَّتوں بھرے اجتِماع میں فیضانِ مدینہ لے گئے ۔ بابُ المدینہ کراچی سے آپ(یعنی سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ )کا ٹیلفونِک بیان سنا، سُنتے ہی میری زندَگی میں مَدَنی انقِلاب برپا ہوگیا ،خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّکے سبب میں نے رو رو کر گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے مُنسَلِک ہو گیا۔ عطاّؔر آباد میں دعوتِ اسلامی کے ایک عاشقِ رسول نے انفِرادی کوشِش کے ذَرِیعے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
مجھے ایک مٹّھی داڑھی رکھوائی۔

                   میں تو نادان تھا دانِستہ بھی کیا کیا نہ کیا

                   لاج رکھ لی مِرے لجپال نے رُسوا نہ کیا
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
(۶)تھوڑے کھانے میں بَرَکت
    حضرتِ سیِّدُنا صُہَیْب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لئے تھوڑا سا کھانا پکایا اوردعوت عرض کرنے کے لئے
Flag Counter