رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گُٹھلیاں اُلٹے ہاتھ میں رکھتا جاتا تھا،جب میں نے سیر ہو کر ان کوشُمارکیا تو 54تھیں! اِسی طرح ان دونوں صَحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی سیر ہو کر کھائیں۔ جب ہم نے کھانے سے ہاتھ روک لیا تو سرکارِ نامدارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی اپنے دستِ پُر انوار اُٹھا لیا ۔ وہ ساتوں کَھجوریں اِسی طرح موجود تھیں! شَہَنْشاہِ خوش خِصال، سلطانِ شیریں مقال ، پیکرِ حُسنِ و جمال، بے مثل و بے مثال، اپنی ہر صفت میں باکمال، محبوبِ ربِّ ذوالجلال عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم نے فرمایا، اے بِلال ! ان کو سنبھال کر رکھو اور ان میں سے کوئی نہ کھائے، پھر کام آئیں گی ۔ حضرتِ سیِّدُنا بِلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، ہم نے ان کو نہ کھایا، جب دوسرا دن آیا اور کھانے کا وَقت ہُوا تو سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وُہی سات کَھجوریں لانے کا حکم دیا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر اِسی طرح ان پر اپنا دستِ مبارَک رکھا اور فرمایا، بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ! اب ہم دس آدَمی تھے سب سَیر ہو گئے۔حُضُور تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنا دستِ رَحمت اُٹھایا تو سات کَھجوریں بد ستُور موجود تھیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا، اے بِلال ! اگر مجھے حقّ تعالیٰ سے حَیا نہ آ رہی ہوتی تو واپَس مدینہ پہنچنے تک ان ہی سات کَھجوروں سے کھاتے ۔ پھر سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہ کَھجوریں ایک لڑکے کوعطا فرما دیں۔ وہ انھیں کھا کر جاتا رہا۔