حضرتِ سیِّدُناعِرباض بن سارِیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، غزوہ تَبوک میں ایک رات سر وَرِکائنات، شاہِ موجودات، دافِعِ آفات و بَلِیّات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وا ٰلہٖ و سلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا بِلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا، اے بِلال! تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ حضرتِ سیِّدُنا بِلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عَرض کی، حُضُور! آپ کے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! ہم تو اپنے تَوشہ دان خالی کئے بیٹھے ہیں۔رحمتِ عالَم ، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا،اچّھی طرح دیکھو اور اپنے تَوشہ دان جھاڑ وشاید کُچھ نکل آئے۔(اُس وقت ہم تین افراد تھے )سب نے اپنے اپنے تَوشہ دان جھاڑ ے تو کُل سات کَھجوریں برا ۤمد ہوئیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کو ایک صَفحَہ پر رکھ کر ان پر اپنا دستِ مبارَک رکھ دیا ، اور فرمایا، بِسمِ اللہ پڑھ کر کھاؤ، ہم تینوں نے محبوبِ داوَر عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دستِ انور کے نیچے سے اُٹھا کر خوب کھائیں، حضرتِ سیِّدُنا بِلال