Brailvi Books

آدابِ طعام
348 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
سے دونوں کی ننھی لاشوں کو اندر لا کران پر کپڑا اُڑھا دیا اور کسی کو خبر نہ دی یہاں تک کہ حضرتِ جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی نہ بتایا۔ دل اگر چِہ صَدمہ سے خون کے آنسو رو رہا تھا مگر چہرے کو ترو تازہ وشِگُفتہ رکھا اور کھانا وغیرہ پکایا۔ سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم تشریف لائے اور کھانا آپ کے آگے رکھا گیا ۔ اِسی وقت جِبرئیلِ امین علیہ الصلوٰۃ و السلام نے حاضِرہو کر عرض کی،یا رسولَ اللہ ! عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جابِر سے فرماؤ، اپنے فرزندوں کو لائے تا کہ وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ کھانا کھانے کا شَرَف حاصِل کر لیں۔ سرکارِ عالی وقار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا، اپنے فرزندوں کو لاؤ ! وہ فوراً باہَر آئے اور زوجہ سے پوچھا، فرزند کہاں ہیں؟ اُس نے کہا کہ حُضُور پُر نور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں عرض کیجئے کہ وہ موجود نہیں ہیں۔ سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کافرمان آیا ہے کہ ان کو جلدی بلاؤ! غم کی ماری زوجہ رو پڑی اور بولی، اے جابِر ! اب میں ان کو نہیں لا سکتی ۔ حضرتِ سیِّدُنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ،آخِر بات کیا ہے؟ روتی کیوں ہو؟ زوجہ نے اندر لے جا کر سارا ماجرا سُنایا اور کپڑا اُٹھا کرمَدَنی منّوں کو دکھایا، تو وہ بھی رونے لگے کیونکہ وہ ان کے حال سے بے خبر تھے۔ پس حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں کی ننھی ننھی لاشوں کو لا کر
Flag Counter