Brailvi Books

آدابِ طعام
347 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)تم جہاں بھی ہو مجھ پر دُرُود پڑھوکہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے ۔
دیتی ہوں کہ بے شک وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں
(الخصائصُ الکبرٰی ج۲ص ۱۱۲)
اللہ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
(۳)فوت شُدہ مَدَنی مُنّے زِندہ ہو گئے!
مشہور عاشِقِ رسول حضرتِ علامہ عبدُالرحمن جامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ روایت فرماتے ہیں ، حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی حقیقی مَدَنی مُنّوں کی موجودَگی میں بکری ذَبح کی تھی ۔ جب فارِغ ہو کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے تو وہ دونوں مَدَنی مُنّے چُھری لے کر چھت پر جا پہنچے،بڑے نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا ، آؤ میں بھی تمہارے ساتھ ایسا ہی کروں جیسا کہ ہمارے والِد صاحِب نے اس بکری کے ساتھ کیا ہے۔ چُنانچِہ بڑے نے چھوٹے کو باندھا اور حَلق پر چُھری چلا دی اور سر جُدا کر کے ہاتھوں میں اُٹھا لیا! جُو نہی ان کی امّی جان رضی اللہ تعالیٰ عنہانے یہ منظر دیکھا تو اُس کے پیچھے دوڑیں وہ ڈرکر بھاگا اور چھت سے گرا اور فوت ہو گیا۔ اُس صابِرہ خاتون نے چیخ وپکار اور کسی قسم کا واوَیلا نہ کیا کہ کہیں عظیمُ الشَّان مہمان سلطانِ دوجہان ، رَحمتِ عالمیان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پریشان نہ ہو جائیں،نہایت صَبرو ا ستِقلال
Flag Counter