ذَبح کر دیا اور فرمایا کہ جلدی جلدی گوشت اورروٹیاں تیاّر کرو ۔جب کھا نا تیّار ہو گیا تو ایک بڑے پیالے میں رکھ کر سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دَربارِ دُربار میں حاضِر ہو گئے اور کھانا پیش کر دیا ۔ رَحمتِ عالَم ، نُورِمُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، شافِعِ اُمَم ، رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا،اے جابر! اپنی قوم کوجَمْع کر لو۔ میں لوگوں کو لے کر حاضرِ خدمتِ بابَرَکت ہوا،فرمایا،ان کوجُدا جُدا ٹولیاں بنا کرمیرے پاس بھیجتے رہو۔ اِس طرح وہ کھانے لگے۔ جب ایک ٹولی سَیر ہوجاتی تو وہ نِکل جاتی اور دوسری آجاتی یہاں تک کہ سب کھا چکے اور برتن میں جتنا کھاناپہلے تھا اُتنا ہی سب کے کھانے کے بعد بھی موجودتھا۔سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے تھے کھاؤ اور ہڈّی نہ توڑو ۔ پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے برتن کے بیچ میں ہڈّیّوں کو جَمْع کیا اور ان پر اپنا ہاتھ مبارَک رکھا اور کچھ کلام پڑھا جِسے میں نے نہیں سُنا۔ابھی جس کا گوشت کھایا تھا وُہی بکری یکایک کان جھاڑتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے مجھ سے فرمایا، اپنی بکری لے جاؤ! میں بکری اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے آیا ۔وہ (حیرت سے ) بولیں، یہ کیا؟ میں نے کہا ،وَاللہ! عَزَّوَجَلَّ یہ ہماری وُہی بکری ہے جس کو ہم نے ذَبح کیا تھا۔ دُعائے مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے زندہ کر دیا ہے! یہ سُن کر ان کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے ساختہ پکار اُٹھیں ، میں گواہی