حضرتِ سیِّدُناکعب بن مالِک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، حضرتِ سیِّدُنا جابِر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حُضُورِ پُر نور،شافِع یومُ النُّشور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ ِبے کس پناہ میں حاضِر ہوئے تو آپ کے چہرہ انور کو مُتَغَیَّر پایا۔ یہ دیکھ کر اُسی وَقت وہ اپنے گھر پہنچے اور اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا، میں نے رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا چہرہ زیبا بدلا ہوا دیکھا ہے ،میرا گمان ہے کہ بھوک کے سبب سے ایسا ہے۔ کیا تیرے پاس کچھ موجود ہے؟ جواب دیا، وَاللہ عَزَّوَجَلَّ اِس بکری اورتھوڑے سے بچے کُھچے آٹے کے سِوا اور کچھ نہیں ۔ اُسی وقت بکری کو
کوڑی نہ رکھ کفن کو،تج ڈال مال و دھن کو
جس نے دیا ہے تن کو ، دیگا وُہی کفن کو
یہ یاد رہے ! مالِ حلال جَمع کرنا حرام نہیں، چُنانچِہ مفتی صاحِب مزید فرماتے ہیں ، مال جمع رکھنا بعدِ وفات چھوڑ جانا حلال ہے جبکہ اِس سے زکوٰۃ ، فطرہ، قُربانی اور حقُوقُ العِباد ادا کئے جاتے رہے ہوں ۔