( مُلَخَّصاً شواہِدُالنُّبُوَّ ۃ ص۲۴۱مکتبۃُ الحَقِیقَۃاِستنبُول تُرکی)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے مقبول بندوں کو کس قَدَرعُروج و کمال کا بخشا ہے کہ اندھوں کو آنکھیں بھی دے سکتے ہیں اور بے حساب جنتَّ میں داخِلہ کی بِشارت بھی ۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مصیبت پر صَبْر کرنے سے زبردست اَجر ملتا ہے۔ آنکھیں چلی جانے پرصَبْر کرنے والے کیلئے تو خود حدیثِ قُدسی میں جنّت کی بِشارت موجود ہے۔ چُنانچِہ رَحمتِ عالَم ، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنّت نشان ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے،''جب میں اپنے بندے کی آنکھیں لے لوں اور وہ صَبر کرے تو آنکھوں کے بدلے اُسے جنّت دوں گا۔
(صحیح البخاری ج۴ص۶حدیث۵۶۵۳ )
ٹوٹے گو سر پہ کوہِ بلا صبر کر، اے مسلماں! نہ تُو ڈَگمگا صَبر کر
لب پہ حرفِ شکایت نہ لا صَبر کر کہ یہی سنّتِ شاہِ ابرار ہے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد