| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
ہے بلکہ بہتر سے بہترین علاج کروانے کے باوُجُود مریض دم توڑ دیتے ہیں پھر بھی علاج مُعالجہ کی کوئی مخالفت نہیں کرتا ہے ۔ تو اگر مَدَنی قافِلے میں بھی مرض دور نہ وہ تو شیطان کے وسوسوں کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ صِرف دُنیاوی مسائل کے حل کی نیّت کرنے کے بجائے مَدَنی قافِلے میں علمِ دین سیکھنے اور ثوابِ آخِرت کمانے کی نیّتیں بھی کرنی چاہئیں۔ اور یہ بھی ذہن میں رکھئے کہ شفاء بھی رَحمت ہے اور مرض بھی سببِ نُزولِ رَحمت۔ ہمیں ہر حال میں صَبْرو تحمُّل(تَ،حَمْ۔مُل)سے کام لینا چاہئے ۔ بیماری اور مصیبت کے بَہُت فَضائل ہیں اور خوش نصیب مسلمان صَبْر کر کے خوب اَجر کماتے ہیں چُنانچِہ
مجھے نابینا رہنا منظور ہے
حضرتِ سیِّدُنا ابوبَصیر علیہ رحمَۃُ اللہِ القدیر نابینا تھے۔ فرماتے ہیں، میں ایکبار حضرتِ سیِّدُنا امام باقِر
علیہ رَحمَۃُاللہِ القادِر
کی خدمتِ سراپا عظمت میں حاضِر ہوا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو آنکھیں روشن ہو گئیں ، جب دوبارہ ہاتھ پھیرا تو پھر نابینا ہو گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا، آپ ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات اختیار کرنا چاہتے ہیں ؟ (۱)آپ کی آنکھیں روشن ہو جائیں اور قِیامت کے روز آپ سے بینائی کی نعمت کا اور دیگر اعمال کا حساب لیا جائے(۲)آپ نابینا ہی رہیں اور بِغیر حساب و کتاب جنّت