Brailvi Books

آدابِ طعام
338 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
مرتبہ ایسا ہوا کہ وہ جِنّ مجھ سے قراٰن سیکھ رہا تھا کہ ایک عَمَلِیّات کرنے والا محلے میں آیا اورصدائیں لگانے لگا ، ''میں سانپ کے ڈسنے ، نظرِ بد اور آسَیب کا دم کرتا ہوں'' اُس جِنّ نے کہا، یہ کون ہے؟ میں نے کہا، یہ جھاڑ پھونک کرنے والا ہے۔ جِنّ بولا، اسے میرے پاس بُلاؤ،لہٰذا میں گیا اور اُسے بُلا لایا۔یکایک وہ جِنّ چھت پر ایک بَہُت بڑا اَژدھا بن گیا !اُس عامِل نے دَم کیا تو وہ اَژدھا تڑپنے لگا یہاں تک کہ گھر کے درمِیانی حصّے میں گر پڑا ۔اس عامل نے(سانپ سمجھ کر)اسے پکڑ کر اپنی زَنبیل (ٹوکری)میں بند کر دیا میں نے اُسے مَنْع کیا تو کہنے لگا، یہ میرا شکار ہے میں اس کو لے جاؤں گا۔ میں نے اسے ایک اشرفی دی تو وہ چھوڑ کرچلا گیا ۔اس کے جانے کے بعداس اژدھے نے حَرَکت کی اور پہلی والی شکل میں ظاہر ہوا لیکن وہ کمزور ہو کر  پیلا پڑگیا تھا!میں نے اس سے پوچھا،تمہیں کیا ہو گیا؟ جِنّ نے جواب دیاعامل نے اَسمائے مبارَکہ پڑھ کر دم کیا جس سے میری یہ حالت ہوئی، مجھے زندہ بچنے کی امّید نہ تھی۔ جب تم کنویں میں چیخ کی آواز سنو تو یہاں سے چلے جانا۔ مغربی مسلمان کا کہنا ہے ، میں نے رات میں چیخ کی آواز سنی تو میں گھر چھوڑ کر دور چلا گیا۔
     ( لَقط المَرجان فی احکام الجان ص۱۰۵)
 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس سنسنی خیز حکایت سے یہ سیکھنے کو ملا کہ بسا اَوقات مذاق مہنگا پڑ جاتا ہے ۔ غالباً اُس جِنّ نے اَژدھا بن کر اُس عامل کو چھیڑنے
Flag Counter