بعض اوقات مسلمان جِنّات بدکار انسانوں کو سزائیں بھی دیتے ہیں چُنانچِہ ابنِ عقیل '' کتابُ الفُنون'' میں فرماتے ہیں، ہمارا ایک مکان تھا جو بھی اس میں رہتا اور رات قِیام کرتا تو صبح کو اُس کی لاش ہی ملتی! ایک مرتبہ ایک مغربی مسلمان آیا اور اس نے اس مکان کو پسند کر کے خرید لیا۔ وہاں رات بسر کی اور صبح کو بِالکل صحیح و سلا مت رہا ۔ اس بات سے پڑوسیوں کو تعجُّب ہوا۔ وہ شخص اس گھر میں کافی عرصہ تک مقیم رہا پھر کہیں چلا گیا۔ جب اس سے(اس گھر میں سلامت رہنے کا سبب )پوچھا گیا تواُس نے جواب دیا، جب میں اس گھر میں رات گزارتا توعشاء کی نَماز کے بعد قراٰنِ کریم کی تلاوت کیا کرتا۔ ایک بار ایک پُراَسرار نوجوان نے کنوئیں سے باہَر نکل کرمجھے سلام کیا۔میں ڈر گیا۔ وہ کہنے لگا، ڈریئے مت مجھے بھی کچھ قراٰنِ کریم سکھایئے ۔ چُنانچِہ میں اسے قراٰنِ کریم سکھانے لگا۔ میں نے اُس سے پوچھا ،اِس گھر کا کیاقِصّہ ہے؟ اُس نے بتایا، ہم مسلمان جِنّات ہیں ہم قراٰن پاک کی تِلاوت بھی کرتے ہیں اور نَماز بھی پڑھتے ہیں ۔ اِس گھر میں اکثر و بیشتر شرابی اور بدکار لوگ رہنے کیلئے آئے اِس لئے ہم نے گلا گُھونٹ کر ان کو مار ڈالا ۔ میں نے اس سے کہا ، رات میں آپ سے ڈر لگتاہے، برائے کرم! دن میں تشریف لایا کریں، اُس نے کہا، ٹھیک ہے ۔چُنانچِہ وہ دن میں کُنویں سے باہَر آتا اور میں اُسے پڑھاتا۔ ایک