Brailvi Books

آدابِ طعام
325 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔
کر کھانے میں مالِک کو ناگواری نہیں ہوگی تو توڑ کر بھی کھاسکتا ہے ۔ مگر کسی صورت میں یہ اجازت نہیں کہ وہاں سے پھل اُٹھا لائے
 (ملخصاً عالمگیری ج۵ ص ۲۲۹)
ان سب صورتوں میں عُرف وعادت کا لحاظ ہے اور اگر عُرف وعادت نہ ہو یا معلوم ہو کہ مالِک کو ناگواری ہوگی تو گرے ہوئے پھل بھی کھانا جائز نہیں ۔
بِغیر پوچھے کھانا کیسا؟
(۸۱)دوست کے گھر گیا کوئی چیز پکی ہوئی ملی خودلیکر کھالی یا اُس کے باغ میں گیا اور پھل توڑ کر کھالیے اگر معلوم ہے کہ اُسے ناگوار نہ ہوگا تو کھانا جائز ہے مگر یہاں اچھی طرح غور کرلینے کی ضَرورت ہے، بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ سمجھتا ہے کہ اُسے ناگوار نہ ہوگا حالانکہ اُسے ناگوار ہے۔
 (مُلَخَّصاً عالمگیری ج۵ ص ۲۲۹ )
 (۸۲)ذَبیحہ کا ''حرام مَغْزْ ''کھانا ممنوع ہے لہٰذا پکاتے وَقْت گردن، چانپ اور پیٹھ کی رِیڑھ کی ہڈّی کے گوشت کو اچّھی طرح دیکھ کر حرام مغز الگ کر لیجئے۔

(۸۳)مرغی کا حرام مَغْزباریک ہوتا ہے اور اس کے نکالنے میں حَرَج ہے لہٰذا پکانے میں رَہ گیا تو مُضایَقہ نہیں۔ مگر کھایا نہ جائے ، اسی طرح مرغی کی
Flag Counter