Brailvi Books

آدابِ طعام
322 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں گے۔
اور ککڑی یا کَھجوراور روٹی مِلاکر تَناوُل فرماتے تھے۔

(۶۷)کُھرچَن سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پسند تھی۔

(۶۸)ثَرِیْد یعنی سالن کے شَوربے میں بِھگوئی ہوئی روٹی کے ٹکڑے سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بَہُت پسند تھے۔

(۶۹)ایک اُنگلی سے کھانا شیطان کااور دو اُنگلیوں سے کھانا مَغرُوروں کا طریقہ ہے تین انگلیوں سے کھانا سُنَّتِ انبیاء علیھم السلام ہے ۔
کتنا کھائے؟
(۷۰)بُھوک کے تین حِصّے کرنا بہتر ہے ۔ایک حصّہ کھانا،ایک حِصّہ پانی اور ایک حِصّہ ہوا۔مَثَلاً تین روٹی میں سَیر ہوجاتے ہیں تَو ایک روٹی کھایئے ایک روٹی جتنا پانی اور باقی ہوا کیلئے خالی چھوڑدیجئے ۔اگر پَیٹ بھرکر بھی کھا لیا تو مُباح ہے کوئی گُناہ نہیں۔ مگر کم کھانے کی دینی و دُنیوی بَرَکتیں مرحبا! تجرِبہ(تَجْ۔رِ۔بَہ) کر کے دیکھ لیجئے ۔
اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلّ
پیٹ ایسا دُرُست ہو جائے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کو پیٹ کا قفلِ مدینہ نصیب فرمائے ۔ یعنی حرام سے بچنے اور حلال کھانا بھی ضَرورت سے زیادہ کھانے سے بچائے۔
            ٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Flag Counter