Brailvi Books

آدابِ طعام
319 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصّے میں بَرَکت ہے۔''
 (صحیح مسلم ص۱۱۱۲۳حدیث ۱۰۲۳)
(۵۳)سالن کے شوربے سے آلُودہ کَٹورے ،چمچ نیز چائے ،لسّی،پھلوں کے رس (JUICES)
شربت اور دیگر مشروبات کے آلودہ ،پیالے ، گلاس اور جگ وغيرہ کو دھوپی کر اِسی طرح صاف کرلیجئے۔ کہ غذا کاکوئی ذرہ یا اثر باقی نہ رہے اور یوں خوب بَرَکتیں لوٹئے۔

(۵۴) گلاس میں بچّے ہوئے مسلمان کے صاف ستھرے جھوٹے پانی کو قابلِ استعمال ہونے کے باوُجُود خوامخواہ پھینک کر ضائِع کر دینا اسراف ہے اور اسراف حرام۔
            ( مُلَخصاً سنّی بہشتی زیور ص ۵۶۷ )
(۵۵)آخِر میں اَلحمدُلِلّٰہ کہئے ۔اوّل آخِر ماثور ( یعنی قراٰن و حدیث کی) دعائیں بھی یاد ہوں تو پڑ ھئے ۔

(۵۶)صابون سے اچّھی طرح ہاتھ دھو لیجئے تاکہ بُو اورچِکناہٹ جاتی رہے ۔
کھانے کے بعد مَسح کرنا سنّت ہے
 (۵۷)حدیثِ پا ک میں یہ بھی ہے،(کھانے سے فراغت کے بعد )''سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہاتھ دھوئے اور ہاتھوں کی تَری سے منہ اور کلائیوں اورسرِاقدس پرمَسْح کرلیا اور اپنے پیارے صَحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
Flag Counter