Brailvi Books

آدابِ طعام
315 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
دوسروں کو محروم کردینا دیکھنے والوں کو بدظن کرتا ہے اور یہ بے مُرُوَّتوں اور حریصوں کا شَیوہ ہے ۔اچھّی اَشیاء اپنے اسلامی بھائیوں یا اہلِ خانہ کیلئے ایثار کی نیّت سے تَرک کریں گے تو اِن شا ءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ثواب پائیں گے۔جیسا کہ سلطانِ دوجہان صلی اﷲتعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ بخشِش نشان ہے، ''جوشخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اس خواہش کو روک کر(دوسروں کو)اپنے اوپر ترجیح دے تواﷲعَزَّوَجَلَّ اسے بخش دیتاہے ۔''
         (اتحاف السادۃ المتقین ج۹ص۷۷۹ )
گرے ہوئے دانے کھالینے کے فضائل
(۳۸)کھانے کے دَوران اگر کوئی دانہ یا لقمہ وغيرہ گر جائے تو اُٹھاکرپُونچھ کر کھالیجئے کہ مغفِرت کی بِشارت ہے۔

(۳۹) حدیثِ پاک میں ہے، جو کھانے کے گِرے ہوئے ٹکڑے اُٹھا کر کھائے وہ فَرَاخی(یعنی خوش حالی)کی زندگی گزارتا ہے اور اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد میں کم عقلی سے حفاظت رہتی ہے۔
 (کنزالعُمّال ج۱۵ ص ۱۱۱ حدیث ۴۰۸۱۵)
(۴۰)حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نَقل فرماتے ہيں ، ''روٹی کے ٹکڑوں اور ریزوں کو چُن لیجئے
اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
خوش حالی نصیب ہو گی۔بچے صحيح وسلامت اور بے عَیب ہوں گے اور وہ
Flag Counter