| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
کھانے کو عیب مت لگایئے
(۲۹)کھانے میں کسی قسم کاعیب نہ لگایئے مَثَلًا یہ مت کہئے کہ ٹیسٹی (لذیذ)نہیں، کچّارہ گیا ہے، نمک کم ہے، تیکھا بَہُت ہے یا پھیکا پھیکاہے وغیرہ وغیرہ ۔ پسند ہے تو کھا لیجئے ،ورنہ ہاتھ روک لیجئے۔ ہاں پکانے والے کومِرچ مَصالَحہ کی کمی بیشی کیلئے ھِدایت دینا مقصود ہو تو تنہائی میں رہنُمائی میں مُضایَقہ نہیں۔
پھلوں کو عیب لگانا زیادہ بُرا ہے
(۳۰)پھلوں کو عیب لگانا انسان کے پکائے ہوئے کھانے کے مقابلے میں زیادہ بُرا ہے کہ کھانا پکانے میں انسانی ہاتھوں کا زیادہ دخل ہے جبکہ پھلوں کے مُعاملے میں ایسا نہیں۔ (۳۱) کھانے یا سالن وغیرہ کے بیچ میں سے مت لیجئے کہ بیچ میں بَرَکت نازِل ہوتی ہے۔ (۳۲)اپنی طرف کے کَنارے سے کھایئے، ہر طرف ہاتھ مت ماریئے۔ (۳۳) اگر ایک تھال میں مختلف قسم کی چیز یں ہیں تو دوسری طرف سے بھی اُٹھا سکتے ہیں۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد