(۲۸)ہمارے یہاں پھل آخر میں کھانے کا رَواج ہے جبکہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں ،''اگر پھل ہوں تو پہلے وہ پیش کئے جائیں کہ طبّی لحاظ سے ان کا پہلے کھانا زیادہ مُوافِق ہے ،یہ جلد ہضم ہوتے ہیں لہٰذا ان کومِعدے کے نچلے حصّے میں ہونا چاہئے اور قراٰنِ پاک سے بھی پھل کے مُقدَّم (یعنی پہلے)ہونے پر آگاہی حاصِل ہوتی ہے چُنانچِہ پارہ ۲۷سورۃُ الواقعہ کی آیت نمبر ۲۰ ،۲۱میں ارشا ہوتا ہے :۔
وَ فَاکِہَۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾ وَ لَحْمِ طَیۡرٍ مِّمَّا یَشْتَہُوۡنَ ﴿ؕ۲۱﴾
ترجَمہ کنزالایمان:اورمیوے جو پسند کریں اورپرندوں کا گوشت جو چاہیں ۔ (پ ۲۷ الواقِعہ ۲۰،۲۱)
(اِحیاءُ العُلُوم ج۲ص ۲۱)
میرے آقا اعلیٰحضرت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن روایت نَقل کرتے ہیں،'' کھانے سے پہلے تربوز کھانا پیٹ کو خوب دھودیتا ہے اور بیماری کوجڑ سے ختم کردیتا ہے۔''
(فتاوٰی رضویہ جدید ج ۵ ص ۴۴۲)