| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
جُدا ہوں اور تین اُنگلیوں سے نوالہ بننا ممکن نہ ہو تو چار یا پانچ اُنگلیوں سے کھا سکتے ہیں۔
روٹی کا کَنارا توڑنا
(۲۴)روٹی کاکَنارا توڑ کر ڈال دینا اور بیچ کاحصّہ کھا لینا اسراف ہے۔ہاں اگرکَنارے کچّے رہ گئے ہیں، اِس کے کھانے سے نقصان ہو گا تو توڑ سکتا ہے ، اِسی طرح یہ معلوم ہے کہ روٹی کے کَنارے دوسرے لوگ کھا لیں گے ضائع نہ ہوں گے تو توڑنے میں حرج نہیں ، یہی حکم اس کا بھی ہے کہ روٹی میں جو حصّہ پھولا ہوا ہے اُسے کھا لیتا ہے باقی کو چھوڑ دیتا ہے۔
(ملخَّص از بہار شریعت حصہ ۱۶ ص۱۸،۱۹)
دانت کا کام آنت سے مت لیجئے
(۲۵)لقمہ چھوٹا لیجئے اوراس احتیاط کے ساتھ کہ چپڑ چپڑ کی آواز پیدا نہ ہو اور اچّھی طرح چبا کر کھائيے ۔ اگر اچھی طرح چبائے بِغیر نگل جائیں گے تو ہضم کرنے کیلئے مِعدہ کو سخت زَحمت کرنی پڑے گی لہٰذا دانتوں کا کام آنتوں سے مت لیجئے۔ (۲۶)جب تک حلْق سے نیچے نہ اُتر جائے دوسرے لقمے کی طرف ہاتھ بڑھانا یا لقمہ اٹھا لیناکھانے کی حِرص کی علامت ہے۔