(۱)کھانے سے مقصود حُصولِ لذّت اور خواہِش کی تکمیل نہ ہو بلکہ کھاتے وقْت یہ نیّت کرلیجئے ،''میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی عِبادت پر قوَّت حاصِل کرنے کیلئے کھا رہا ہوں''یاد رہے ! کھانے میں عبادت پر قوّت حاصِل کرنے کی نیَّت اُسی صورت میں سچّی ہو گی جبکہ بھوک سے کم کھانے کا بھی ارادہ ہو ورنہ سِرے سے نیّت ہی جھوٹی ہو جائے گی کیوں کہ خوب ڈَٹ کر کھانے سے عبادت کیلئے قُوَّت حاصل ہونے کے بجائے مزید سُستی پیدا ہوتی ہے۔کھانے کی عظيم سُنَّت یہ ہے کہ بھوک لگی ہوئی ہوکہ بِغير بھوک کے کھانے سے طاقت تو کیا آئے گی اُلٹا صحّت خراب اوردِل بھی سخت ہوجاتا ہے۔حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، ایک روایت میں ہے،'' سیر ہونے کی حالت میں کھانا برص پیدا کرتا ہے۔