(۱۳)آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ارشاد فرماتے ، گوشت کانوں کی سَماعت بڑھاتا ہے اور دنیا و آخِرت میں کھانوں کا سردار ہے ۔ اگر میں اللہ عزوجل سے سُوال کرتا کہ مجھے روزانہ گوشت عطا کرے تو عنایت فرماتا
(مُلَخَّصاً اتحاف السادۃالمتقین ج۸ص۲۳۸)
(۱۴)سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم گوشت اور کدّو سے ثرید بنا کر کھاتے (یعنی گوشت اور کدّو شریف کے سالن میں روٹی کے ٹکڑے اچّھی طرح بھگو کر تناوُل فرماتے)
(مُلَخَّصاً اتحاف السادۃالمتقین ج ۸ ص ۲۳۹)
(۱۵)سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب گوشت تناوُل فرماتے تو اُس کی طرف سرِ اقدس کو نہ جُھکاتے
(مُلَخَّصاً اتحاف السادۃالمتقین ج ۸ ص ۲۳۹)
بلکہ اُس کو اپنے دَہَن (منہ)مبارَک کیطرف اٹھاتے اور پھر دندانِ مبارَک سے کاٹتے
(ملخصاًجامع ترمذی ج۳ ص۳۲۹ حدیث ۱۸۴۲)
(۱۶)سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوبکری (اور بکرے )کے گوشت میں دست (یعنی بازو)اور شانہ (یعنی کندھا )پسند تھا
(مُلَخَّصاًجامع ترمذی ج۳ص۳۳۰حدیث۱۸۴۲،۱۸۴۴)
(۱۷)سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم گردے (کھانا)ناپسند فرماتے تھے کیوں کہ وہ پیشاب کے قریب ہوتے ہیں
(مُلَخَّصاً کنزالعمال ج۷ ص۴۱ حدیث ۱۸۲۱۲)
(۱۸)سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم کو تِلّی (کھانے سے)نفرت تھی مگر اِس کو حرام قرار نہیں دیا
(مُلَخَّصاً اتحاف السادۃالمتقین