حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے رِوایتَت ہے کہ خَلْق کے رہبر،شافِعِ محشر، محبوبِ داوَر عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے،''جو اِس حال میں رات گُزارے کہ اسکے ہاتھ پر (کھانے کی )چِکنائی کا اثر ہواور اسے کوئی مصیبت پَہُنچ جائے تو سِوائے اپنی جان کے کسی اور کو ملامت نہ کرے۔''
(مجمع الزوائد ج۵ص۳۳حدیث ۷۹۵۴ )
میٹھے ميٹھے اسلامی بھائیو!کھانے کے بعد ہاتھوں کو صابُون وغيرہ سے اچّھی طرح دھو کر تولیہ سے پُونچھ لینا چاہئے تاکہ کھانے کی بُو اورچِکناہٹ جاتی رہے ، ورنہ آپ کسی سے مَصافَحہ کریں گے توبُو کی وجہ سے اُس کو گِھن آسکتی ہے۔ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں ، ''اس حدیثِ پاک میں مصیبت سے مُراد سانپ یا چوہے کا کاٹ جانا ہے۔ یہ دونوں جانور کھانے کی خوشبو پر دوڑتے ہیں یا اِس سے مُراد بَرص کی بیماری ہے کہ کھانے سے سَنے ہوئے ہاتھ جسم