| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
سراپا نور ،فیض گَنجور، شاہِ غَیُور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس سے گزری ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اُس وَقت قَدِید یعنی خشک گوشت کے ٹکڑے تناوُل فرمارہے تھے، اُس نے بھی اِس میں سے مانگا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُس کو اپنے آگے کے حصّے سے کچھ دے دیا ، وہ بولی، نہیں، اپنے منہ شریف میں جو ہے وہ عطا فرمایئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دَہَن مبارَک سے نکال کر عنایت فرمایا، تو اُس نے اپنے منہ میں ڈالااور کھالیااس واقعہ کے بعد اُس عورت سے کبھی بدزَبانی یافُحش کلامی نہیں سُنی گئی۔
(اَلخصَائِصُ الکُبریٰ ج۱ص ۱۰۵)
موسلا دھار بارش
میٹھے ميٹھے اسلامی بھائیو!دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے، سنّتوں بھرے اجتِماع میں شرکت فرمایا کیجئے۔
اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
آخِرت کی بے شُمار بھلائیاں ہاتھ آئیں گی بلکہ دنیوی پریشانیاں بھی دُور ہوں گی، عاشقِانِ رسول کے قُرب میں
اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
دعائیں بھی قَبول ہوں گی۔ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضیٰ شیرِ خدا
کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم
سے روایت ہے کہ مکّی مَدَنی سرکار، دو عالم کے مالِک و مختار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا ،
اَلدُّعاءُ سِلاحُ المؤ مِنِ وَعِمَادُالدِّینِ ،وَنُورُ