| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جس نے مجھ پر دس مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
کمی کرنے جائیں اور نفسِ مکّار آپ کو بھوک مِٹانے کا جھانسا دیکر چائے اور پان کی کثرت کی آفت میں پھنسا دے۔چائے گُردوں کیلئے مُضِر (یعنی نقصان دِہ )ہے۔پان، گُٹکا، مَین پوڑی اور خوشبو دار سونف سُپاری وغیرہ کی عادت نکالدینے میں ہی عافیّت ہے۔ جو لوگ ان کا کثرت سے استِعمال کرتے ہیں ان کو مَسُوڑھوں ، مُنہ اور گلے کے کینسر کا اندیشہ رَہتا ہے ۔ زِیادہ پان کھانے والوں کا مُنہ اندر سے لال ہو جاتا ہے ، اگر مسُوڑھوں میں خون یا پیپ ہو گیا تو ان کو نظر نہیں آئے گا اور پیٹ میں جاتا رہے گا ۔ چونکہ ایک عرصہ تک پیپ نکلتا رہتا ہے مگر درد بالکل نہیں ہوتا لھٰذا ان کو شاید معلوم بھی اُس وقت ہو گا جب خدانخواستہ کسی خطرناک بیماری نے جڑ پکڑ لی ہو گی!
نقلی کتھے کی تباہ کاریاں
پاکستان میں غالِباً کَتّھے کی پیداوار نہیں ہوتی ، لہٰذا دولت کے حَریص اَفراد جنھیں کسی کی دنیاا ور اپنی آخِرت کے بربادہونے کی کوئی فِکر نہیں ہوتی وہ مِٹّی میں چمڑا رنگنے کا رنگ ملا کراُسی مِٹّی کو کتھّا کہہ کر بیچتے ہیں! اور یوں بے چارے پاکستانی پان خور گندی مِٹّی کھاکر طرح طرح کے اَمراض کا شکار اور سخت بیمار ہوکر تباہی کے غار میں جاپڑتے ہیں۔جان بوجھ کر نقلی کتھّا ہر گز استعمال نہ فرمائیں ۔ نقلی کتھّے کے تاجِراور نقلی کتھّے والا پان بیچنے والے اِس فعل سے سچّی توبہ