| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر ایک باردُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔
وغیرہ کا ذرّہ نکل ہی نہیں رہا تو اب اِتنی بھی سختی نہ فرمائیں کہ مَسُوڑھے زخمی ہوجائیں کہ جو مجبور ہے وہ مَعذور ہے۔
خلال کی طبی حکمتیں
ہمارے میٹھے ميٹھے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آج سے ۱۴۰۰ سال سے بھی زائد عرصہ پہلے ہی کئی اَمراض سے تحفُّظ کیلئے خِلال کی اَہَمِّیَّت (اَھَم ۔ مِی ْ۔ یَت )سمجھا دی ۔ اب صدیوں بعدسائنس دانوں کی سمجھ میں بھی آگیا۔ چُنانچِہ خِلال کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے اَطِبّاء کہتے ہیں ،''کھانے کے بعد غِذا ئی اَجزاء دانتوں اورمَسُوڑھوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں، اگر ان کوخِلال کے ذَرِیْعے نکالا نہ جائے تو یہ سڑتے ہیں جس سے ایک خاص قسم کاپلاسمہ (PLASMA)
بن کرمَسُوڑھوں کو مُتَورِّم کرتا (یعنی سُجاتا)اور اس کے بعد دانتوں اور مَسُوڑھوں کے تعلُّق کوخَتْم کردیتاہے، نتیجۃً دانت آہِستہ آہِستہ گِر جاتے ہیں، خِلال نہ کرنے سے دانتوں میں پا ئِریا (PHYORRHEA)
کی بِیماری بھی ہوتی ہے۔ جس میں مَسُوڑھوں میں پیپ ہوجاتی ہے جو کھانے کے ساتھ پیٹ میں جاتی اور پھرمُہلِک(مُہْ۔لِکْ) امراض جَنَم لیتے ہیں۔
دانتوں کا کینسر
چائے پان کے عادی غذا کی کمی کے ساتھ ساتھ چائے اور پان میں بھی کمی کا ذِہن بنائیں یہ نہ ہو کہ آپ غِذا میں