میرے آقا اعلیٰحضرت،اِمامِ اَہلسنّت، ولئ نِعمت،عظیمُ البَرَکت، عظيمُ المَرتَبت،پروانہِ شمعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، حامیِئ سنّت ، ماحِیِئ بِدعت، عالِمِ شَرِيعَت ، پيرِ طريقت،باعثِ خَير وبَرَکت، حضرتِ علامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری الشّاہ امام اَحمد رَضا خان علَيہِ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں، پانوں کے کثرت سے عادی خُصُوصاً جبکہ دانتوں میں فَضا(گیپ)ہو تجرِبہ سے جانتے ہیں چھالیہ کے باریک رَیزے اور پان کے بَہُت چھو ٹے چھوٹے ٹکڑے اِس طرح منہ کے اَطراف و اَکناف میں جاگیر ہوتے ہیں(یعنی منہ کے کونوں اور دانتوں کے کھانچوں میں گھُس جاتے ہیں)کہ تین بلکہ کبھی دس بارہ کُلّیاں بھی اُن کے تَصْفِیَہ تام(یعنی مکمّل صفائی )کو کافی نہیں ہوتیں ،نہ خِلال اُنہیں نکال سکتا ہے نہ مسواک ،سِوا کُلّیوں کے کہ پانی مَنافِذ (یعنی سُوراخوں)میں داخِل ہوتا اورجُنبِشیں دینے(یعنی ہِلانے)سے جمے ہوئے باریک ذرّوں کو بَتَدرِیج چُھڑا چُھڑا کر لاتا ہے، اس کی بھی کوئی تحدید(حد بندی )نہیں ہوسکتی اور یہ کامل تَصْفِیَہ(یعنی مکمّل صفائی)بھی بَہُت مُؤکِّد(یعنی اِس کی سخت تاکید)ہے مُتَعَدَّد اَحادیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جب بندہ نَماز کو کھڑا ہوتا ہے فِرِشتہ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھتا ہے یہ جو پڑھتا ہے اِس کے منہ سے نکل کر فِرِشتے