| آدابِ طعام |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
کر پھینک دیتے ہیں ایسا نہیں کرنا چائیے کہ اِس طرح بارُوْد ضائِع ہوتا ہے کسی اور تِنکے سے خِلال کر لیا جائے،خِلال کی اَہَمِّیَّت سے احادیث ِکریمہ مالا مال ہیں ۔ چُنانچِہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابُو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ،''سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا،''جو شخص کھانا کھائے (اور دانتوں میں کچھ رہ جائے)اُسے اگر خِلال سے نِکالے تو تُھوک دے اور زَبان سے نِکالے تو نِگل جائے۔جس نے ایسا کیا اچّھا کیا اور نہ کیا تَو بھی حَرَج نہیں۔''( ابوداو،د شریف ج۳ص۴۶ حدیث ۳۵)
کراما کاتبین اور خلال نہ کرنے والے
حضرتِ سیِّدُنا ابوایّوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حُضُور سیّدِ دوعالَم،نورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمارے پا س تشریف لائے اور فرمایا،'' خِلال کرنے والے کتنے عمدہ ہیں۔''صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کی، ''یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !کس چیز سے خِلال کرنے والے ؟ ''فرمایا ، '' وُضومیں خِلال کرنے والے اور کھانے کے بعدخِلال کرنے والے۔ وُضو کا خِلال کُلّی کرنا،ناک میں پانی چڑھانا اور اُنگلیوں کے درمیان (خِلال کرنا )ہے جبکہ کھانے کا خِلال کھانے کے بعد ہے اور کِراماً کاتِبِین(یعنی اعمال لکھنے والے دونوں بُزُرگ فِرِشتوں)پر اس سے زيادہ کوئی بات شدید نہیں کہ وہ جس شخص پر مقرَّر ہیں اُسے اِس حال میں نَماز پڑھتا دیکھیں کہ اسکے دانتوں کے درمیان کوئی چیز ہو۔''
(طبرانی کبیر ج۴ص۱۷۷حدیث۴۰۶۱)