Brailvi Books

آدابِ طعام
281 - 642
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
ٹھنڈا نہ کرنا باعثِ بَرَکت ہے اور اِس طرح کھانے میں تکلیف بھی نہیں ہوتی ۔ ''
(مِراٰۃ ج ۶ ص ۵۲)
تیز گرم کھانے یاخوب گرما گرم چائے یاکافی وغیرہ پینے سے مُنہ اور گلے کے چھالے ، مِعدے میں وَرَم وغیرہ ہو جانے کا خطرہ ہے۔ نیزاس پر فوراً ٹھنڈا پانی پینامسُوڑھوں اورمِعدے کو نقصان پہنچاتا ہے۔
کھانے میں مکھی
کھانے یا پینے کی کسی چیز میں مکّھی گرجائے تواُس غذا کوپھینک دینا اِسراف وگناہ ہے مکّھی کوغَوطہ دے کر نکال دیجئے اور وہ غذا بِلا تکلُّف استِعمال کیجئے۔چُنانچِہ طبیبوں کے طبیب ، اللہ کے حبیب ، حبیبِ لَبِیب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں،'' جب کھانے میں مکّھی گِر جائے تواِسے غَوطہ دے دو(اور پھینک دو) کیوں کہ اِس کے ایک بازو میں شِفا ہے اور دُوسرے میں بِیماری، کھانے ميں گِرتے وَقت پہلے بِیماری والا بازو ڈالتی ہے لہٰذا پوری ہی کو غوطہ دے دو۔''
 (ابوداو،د شریف ج۳ص۵۱۱ حدیث ۳۸۴۴)
سائنس کا اعتراف
ميٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! نگاہِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پرقربان! ہمارے میٹھے ميٹھے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جو کچھ مُلاحَظہ فرمالیا تھا اب سائنس بھی اِس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ چُنانچِہ سائنسدان اعتِراف کرتے ہیں کہ مکّھی کے ایک پر میں خطرناک
Flag Counter